Monday, December 14, 2020

پی ڈی ایم جلسہ میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی، میڈیا پر کچھ اور دکھایا گیا، درست تعداد نہ بتانے کا دباؤ ڈالا گیا، بی بی سی کی پی ڈی ایم جلسہ پر رپورٹ، اہم انکشافات کر دیے

 پی ڈی ایم جلسہ میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی، میڈیا پر کچھ اور دکھایا گیا، درست تعداد نہ بتانے کا دباؤ ڈالا گیا، بی بی سی کی پی ڈی ایم جلسہ پر رپورٹ، اہم انکشافات کر دیے




لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پی ڈی ایم کے لاہور جلسے پر گزشتہ روز سے شرکاء کی تعداد پر مختلف رائے نظر آ رہی ہیں، کوئی تین ہزار بتا رہا ہے تو کوئی ساٹھ ہزار، ن لیگ کے سابق وزیراعظم نے شرکاء کی تعداد ایک لاکھ بتائی ہے، دوسری جانب بی بی سی نے اپنے تبصرے میں لاہور جلسے کے بارے میں کچھ اس طرح کہا ہے کہ گذشتہ شام اگر آپ نے ٹی وی آن کر رکھا تھا تو اپنی

سکرینوں پر ایسے مناظر تو دیکھے ہوں گے جن میں مینارِ پاکستان پر سیاسی جماعتوں کے حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جلسہ گاہ تقریباً خالی نظر آ رہی تھی جبکہ چند سکرینوں پر کافی لوگ موجود نظر آئے۔لیکن اگر ہماری طرح آپ کا زیادہ وقت ٹی وی کے بجائے سوشل میڈیا پر گزرتا ہے تو وہاں منظرنامہ ٹی وی کے بالکل برعکس تھا۔ کئی مرتبہ تو ایسا محسوس ہوا کہ چند ٹی وی چینلز کسی اور جلسے کی کوریج کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر شاید کسی مختلف جلسے کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کی جا رہی ہیں۔ایک نجی چینل کے مطابق پی ڈی ایم کی قیادت نے جس تعداد کا دعویٰ کیا تھا اس کے 10 فیصد لوگ بھی جلسہ گاہ میں موجود نہیں تھے۔ کسی چینل پر جلسے کے شرکا کی تعداد تین سے چار ہزار کے بیچ تھی تو دوسرے چینل کے رپورٹر یہ کہتے سنائی دیے کہ مینارِ پاکستان پر 60 ہزار سے زیادہ لوگ موجود ہیں۔

حامد میر

رپورٹر کی مذمت کر رہے ہیں جس نے کہا جلسے میں ستر ہزار کے قریب لوگ آ چکے ہیں۔ آپ اختلاف کریں لیکن میڈیا پر دباؤ ڈال کر پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام نہ کریں۔ بی بی سی کے تجزیے کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے بھی اپنی تقریر میں جلسے کی کوریج کے حوالے سے میڈیا چینلز پر دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میڈیا والوں کو شرم آنی چاہیے جو کہتے ہیں کہ چند ہزار


لوگ جلسہ میں شریک ہیں۔ ان کو اور ان سے یہ کہلوانے والوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔ دوسری جانب بی بی کی نامہ نگار جو مینار پاکستان پر موجود تھیں انہوں نے بتایا کہ کل صبح جب کوریج کرنے کے لیے مینار پاکستان کی طرف روانہ ہوئی تو سوچ رہی تھی کہ اگر راستے بند ہوئے یا رکاوٹیں ہوئیں تو کس راستے سے مینار پاکستان تک پہنچوں گی لیکن ایسا کچھ نہیں


آخری سرے سے فوٹیج بنانے کی ہدایات بھی موصول ہوئیں اور کوریج کا یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا۔بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق جب شام ڈھلنا شروع ہوئی تو جلسہ گاہ میں شرکا کی تعداد بڑھنے لگی اور ایک وقت ایسا آیا کہ جلسہ گاہ بھر گئی اور آزادی پل پر اور گراؤنڈ سے باہر بھی لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جیسے جیسے جلسہ گاہ میں شرکا کی تعداد


بڑھنے لگی، ٹی وی چینلز پر ماحول بھی بدلنے لگا اور کئی رپورٹرز یہ تاثر دیتے نظر آئے کہ شاید جلسہ گاہ خالی ہے اور مینارِ پاکستان پر شرکا سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس موقع پر پاکستان تحریکِ انصاف کے بیشتر رہنما بھی ان چینلز کے کلپ شئیر کرتے اور پی ڈی ایم کے جلسے کو ’فلاپ شو‘ قرار دیتے نظر آئے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ڈی ایم جلسہ کامیاب رہا یا پھر ناکام، اس بات کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے جلسے کی کوریج کس چینل پر دیکھی۔

0 comments: