تحریک انصاف کو بڑا جھٹکا دو ایم پی اے ۔پارٹی کو چھوڑ گۓ
سردار میرشھر یار خا ن شر اور اسلم ابڑو پی ٹی آۓ کی ٹیکٹ پر منتخب ھوے
۔لیکن پارٹی کی غلط پالیسوں۔کی وجہ سے ناراض تھے۔۔
ایک تو اہم مسٸلہ ۔سندھ تقسیم پر تہا ۔
کچھ دن پہلے اسعد عمر سردارشھر خان کو منانے کے لیے ۔اباڑو آۓ لیکن منا نہ سکے شھر یار خان نے کہا سندھ پر کسی قسم سے بھی ۔تقسیم قبول نھی۔۔۔
اب میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں کے ۔اسلم ابڑو اور شھر یارخان نے پیپلزپارٹی میں اعلان کردیا ہے ۔لیکن ۔ان کی جانب سے ابھہ تک ۔نہ تصدیق ہوٸی نہ تردید۔
Sunday, December 27, 2020
چور ڈاکو چھوڑیں ، مسئلے کا حل نکالو اسٹیبلشمنٹ نے وزیر اعظم عمران خان کو پیغام پہنچا دیا
چور ڈاکو چھوڑیں ، مسئلے کا حل نکالو اسٹیبلشمنٹ نے وزیر اعظم عمران خان کو پیغام پہنچا دیا
اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ محمد علی درانی کو شہباز شریف کے پاس حکومت نے نہیں اسٹیبلشمنٹ نے بھیجا ۔تین دن پہلے بھی شہباز شریف سے کوئی ملاقات کے لیے گیا تھا۔
اس کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو کمرے سے باہر کر دیا گیا تھا۔پروگرام کے دوران عارف حمید بھٹی سے سوال کیا گیا شہباز شریف سے ملاقات کرنے والا سیاسی بندہ تھا یا پھر اسٹیبلشمنٹ کا بندہ تھا۔جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی بندے کی تو کوئی حیثیت نہیں ہے۔کیا عمران خان نے اڑھائی سال اپنے ووٹ بینک پر گزارے۔اگر کوئی ق لیگ یا ایم کیو ایم کے کان میں کہہ دے کہ آپ آزاد ہیں تو ایک دن بعد حکومت ختم ہو جائے گی۔عارف حمید بھٹی نے دعوی کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو کہہ دیا ہے کہ بند گلی کی طرف نہ جائیں،چور ڈاکو چھوڑیں اور بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں، بھارت سر پر کھڑا ہے۔دریں اثنامسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی رہنما محمد علی درانی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی کشمکش کم کرنے کیلئے غیرمحسوس کردار متحرک ہیں، یہ کردار اداروں سے ہوسکتے ہیں جبکہ لندن میں بھی ٹریک ٹو مذاکرات جاری ہیں،ٹریک ٹو ڈائیلاگ کا مقصد یہ ہے کہ نمود و نمائش کے بغیر
غیر محسوس طریقے سے ایک ایسی سرگرمی شروع کی جائے جو کسی نتیجے پر پہنچ سکے اور اس سرگرمی کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں وہ ادارے، وہ افراد، وہ شخصیات اور وہ سارے عناصر بھی شامل ہوں گے جو میڈیا کے سامنے نہیں آتے۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے
Saturday, December 19, 2020
مولانافضل الرحمن کے مختصر حالات زندگی
مولانافضل الرحمن کے مختصر حالات زندگی:
مولانا فضل الرحمن 21 اگست 1953ء بروز جمعہ حضرت مفتی محمود کے گھر پیدا ہوئے۔مولانامفتی محمود سے پاکستان کاہرشخص واقف ہے،موصوف ملک کے نامور مفتی،جامعہ قاسم العلوم ملتان کے شیخ الحدیث،قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف اور صوبہ کے پی کے کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔مولانافضل الرحمن نے ابتدائی تعلیم چچا خلیفہ محمدؒ سے حاصل کی اور پرائمری تک عبد ل خیل میں ہی پڑھتے رہے 1965ء میں پانچویں جماعت،گورنمنٹ پرائمری سکول عبدل خیل سے پاس کرنے کے بعد قاسم العلوم کے قریب ملت ہائی سکول کچہری روڈ ملتان میں داخل ہوئے، جہاں نے آپ میٹرک تک تعلیم حاصل کی،1970ء میں پنجاب ایجوکیشن بورڈ کے تحت امتحان دیا اور فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئے۔عبدل خیل میں خلیفہ محمدصاحب ؒسے ناظرہ قرآن مجیدکے بعد فارسی اور فقہ کی ابتدائی کتب پڑھ چکے تھے۔اس کے بعد مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں مولانا عبداللطیف سے مزید دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔علم تجویدمیں آپ نے ”جمال القرآن“ استاذالقرأحضرت مولانا قاری محمد طاہر رحیمی(مدفون جنت البقیع مدینہ منوہ) سے پڑھی،اور تجویدکی مشق اپنے والدگرامی حضرت مولانا مفتی محمود ؒ سے حاصل کی،حضرت مفتی صاحب سبع عشرہ کے ماہر،جیدقاری تھے یہی وجہ ہے کہ قائدجمعیۃ مولانافضل الرحمن حضرت مفتی صاحب ہی کے لہجے میں بہت ہی خوبصورت اور دلکش اندازمیں تلاوت قرآپاک کرتے ہیں۔میٹرک کے امتحان کے فوراً بعدحضرت مفتی صاحب ؒ نے آپ کو بستی خلیل آباد شادن لُنڈ ڈیرہ غازی خان بھیجاجہاں آپ نے مولانا محمدعیسیٰ خان گورمانی سے علم صرف میں مہارت حاصل کی،ٍ1972ء میں مولانا فضل الرحمن صاحب حج کے لئے بذریعہ بحری جہاز تشریف لے گئے تھے اور اسی جہاز میں دارالعلوم حقانیہ کے استاذحدیث حضرت مولانا محمدعلی سواتی ؒ بھی موجود تھے ان سے تعارف اور تعلق پیداہونے کے بعد حج سے واپسی پر 3/محرمالحرام 1392ھ مطابق19 فروری 1972ء کو آپ نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں داخلہ لے کر تعلیم کا بقیہ سفر شروع کیا۔ شعبان 1399 ھ مطابق جولائی 1979ء کو وفاق المدرس کے تحت دورہ حدیث کا امتحا ن دیکر سند فراغت حاصل کی۔1979ء میں جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے فراغت حاصل کرنے کے بعد مولانا فضل الرحمن نے اپنے والدگرامی اور دیگر اساتذہ کی نگرانی میں جامعہ قاسم العلوم ملتان سے درس و تدریس کا آغاز کیا۔اسباق کے ساتھ ساتھ کچھ وقت دارالافتاکوبھی دیتے تھے اور فقہی سوالات کی بھی تحقیق کرکے جوابات تحریرکرتے تھے اس دوران ایم آرڈی کی تحریک کے دوران وقتاًفوقتاً آپ کی گرفتاری اور قیدوبندکا سلسلہ بھی جاری رہا مگر جب بھی رہائی ملتی تو تدریس کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، قاسم العلوم کے ساتھ یہ تعلق 1985ء تک قائم رہا،حضرت مفتی صاحب کی وفات کے بعد آپ کوحضرت مفتی صاحب ؒکے قائم کردہ مدرسہ کا مہتمم بنایا گیا،بعدمیں لوگوں کے اصرارپرآپ نے اپنی سرپرستی اور اہتمام میں جامعۃ المعارف الشرعیہ کی بنیادرکھی جس کی سنگ بنیادرکھنے کی تقریب میں جمعیت علماء ہندکے امیر حضرت مولانا سید اسعدمدنی،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد،رابطہ عالمی اسلامی کے سیکرٹری جنرل عبداللہ عمر نصیف،جامعہ ازہر مصر،جمعیۃ الدعوہ طرابلس لیبیا کے وفود کے علاوہ بہت بڑی تعدادمیں غیرملکی اور علاقائی علماء اور جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں نے شرکت کی۔ابتدائی چندسال ایک عارضی عمارت میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھاگیا،بعد میں جب اس کی اپنی عمارت مکمل ہوئی 1992ء میں اس کو مستقل عمارت میں منتقل کردیا گیا۔وفاق المدارس العربیہ کے ساتھ اس کا الحاق ہے، حضرت مفتی صاحب کے وفات کے بعد آپ خانقاہ یسین زئی پنیالہ کے سجادہ نشین حضرت صاحبزادہ سید احمدصاحب سے بیعت ہوئے۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید خلیفہ مجاز حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب نے بھی جب عرفات کے میدان میں حج میں شریک تھے تو آپ کو چاروں سلسلوں میں اپنی خواہش پر مجاز بیعت فرمایا تھا،شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ کے صاحبزادے حضرت مولانا محمدطلحہ کاندھلوی کی طرف سے بھی آپ کو خلافت ملی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ شیخ الحدیث حضرت مولانامحدزکریاؒ کی طرف سے آپ کو اجازت حدیث بھی حاصل ہے۔
28/مئی 1980ء کو حاجی فیض اللہ خان قریشی کی بیٹی سے مولانا فضل الرحمن کی شادی ہوئی۔قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن نے جمعیت طلباء اسلام کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغازکیا اور اپنی خدادادصلاحیتوں کی بناپر اس میں بھی قائدانہ کردار اداکیا 1976ء صوبہ خیبرپختون خواکے صوبائی انتخابات میں مولانافضل الرحمن صوبائی صدرمنتخب کئے گئے، 1977ء میں بھٹوحکومت کے خلاف قومی اتحادکی ملک گیراحتجاجی تحریک میں مولانا فضل الرحمن نے جمعیت طلباء اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے پشاور میں صوبائی اسمبلی کے گھیراؤکے لئے نکالی جانے والی ریلی کے قائدین میں شامل تھے جس میں آپ کی گرفتاری عمل میں آئی اور آپ کو ہری پور جیل میں رکھاگیا جہاں پہلے سے آپ کے والد گرامی حضرت مفتی صاحب ؒ سینکڑوں علماء اور ہزاروں کارکنوں کے ساتھ قید تھے۔ تکمیل تعلیم کے بعد مولانا فضل الرحمن نے اپنی پوری توجہ درس وتدریس اور مطالعہ کتب کی جانب مبذول کررکھی تھی کہ اس دوران مفکراسلام حضرت مولانامفتی محمودؒ کے انتقال کا سانحہ پیش آگیا۔ امیرجمعیت علماء اسلام حضرت مولانا عبداللہ درخوستی ؒ نے آپ کو جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا رکن اور مجلس عاملہ میں ناظم اول مقررکیا حضرت مفتی صاحب کی جگہ ناظم عمومی کے انتخاب کا مرحلہ جب آیا اس کے لئے جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس طلب کیاگیا تو ان دنوں مولانا فضل الرحمن جیل میں تھے مگر ارکان نے بھاری اکثریت کے ساتھ بطور مرکزی ناظم عمومی آپ ہی کا انتخاب کیا۔بعد ازاں آپ مسلسل کئی بار ناظم عمومی منتخب ہوئے۔28مارچ 1995ء کو جامعہ مدینہ کریم پارک لاہور میں جمعیت علماء اسلام کی مرکزی جنرل کونسل کے کل 325 اراکین میں سے نوے فیصد حاضر ممبران کی اکثریت نے پہلی دفعہ حضرت مولانا فضل الرحمن کو امیر مرکزیہ منتخب کیا اور مولانا عبدالغفور حیدری مرکزی ناظم عمومی منتخب ہوئے،16/فروری 1999ء شام تین بجے مرکزی دفتر جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس ہو اجس میں مجلس عمومی کے ارکان نے متفقہ طور پر آئندہ تین سال کے لئے قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن مدظلہ کو مرکزی امیر منتخب کرلیاجبکہ مولانا عبدالغفور حیدری کو مجلس عمومی نے بھاری اکثریت کے ساتھ ناظم عمومی منتخب کرلیا۔مرکزی مجلس عمومی کااجلاس 19۔20/ستمبر2006ء کو جامعہ تحسین القرآن نوشہرہ میں منعقدہوا۔ مرکزی ناظم انتخابات مولانا ڈاکٹر خالدمحمودسومروشہیدکی نگرانی میں مرکزی امیر اور ناظم عمومی کے عہدے کے لئے الیکشن ہوا جس میں امارت کے لئے مولانا فضل الرحمن بلامقابلہ امیر منتخب ہوئے اور مولانا عبدالغفور حیدری بھاری اکثریت کے ساتھ ناظم عمومی منتخب ہوئے۔یکم اگست 2010ء کومرکزی دفترجمعیۃ علماء اسلام جامعہ مدنیہ لاہورمیں جمعیت علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا انتخابی اجلاس منعقدہوا جس میں ارکان مجلس عمومی نے قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن کو ایک بار پھر متفقہ طور پر جمعیت علماء اسلام کا مرکزی امیر منتخب کیا اور مولانا عبدالغفور حیدری مرکزی ناظم عمومی منتخب ہوئے،11/اگست 2014ء جمعیت علماء اسلام کے مرکزی انتخابات میں مرکزی مجلس عمومی نے ایک بار پھر قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن کو متفقہ طور پربلامقابلہ امیر مرکزیہ اور مولانا عبدالغفور حیدری کو جنرل سیکرٹر ی منتخب کیا،2019ء کے جماعتی الیکشن میں جمعیت علماء اسلام کی مجلس عمومی نے ایک بار پھر آپ کا بلا مقابلہ جمعیت علماء اسلام کا مرکزی امیرمقررکیا۔ 2002ء میں آپ متحدہ مجلس عملی کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے،قومی انتخابات کے نتیجہ میں صوبہ کے پی کے میں آپ کی جماعت کے محمداکرم خان درانی صوبہ کے وزیراعلیٰ بنے جبکہ قومی اسمبلی میں آپ قائدحزب اختلاف کے منصب پر فائز ہوئے،2008ء اور 2012ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوکر قومی کمیٹی برائے امور کشمیر کے چیئرمین بنائے گئے۔2018ء کے الیکشن میں جس طرح آپ کو ہرایا گیا وہ ساری دنیا جانتی ہے اس کے بعد آپ مسلسل دھاندلی کی بنیاد پر وجود میں آنے والی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں،آپ کو اس دوران ہرقسم کی لالچ بھی دی گئی،ڈرایادھمکایا بھی مگر آپ کسی لالچ اور خوف میں آئے بغیر اپنے موقف قائم رہے،چند ماہ قبل آپ کو11جماعتوں پرمشتمل اپوزیشن کے اتحاد”پاکستان ڈیمکریٹک موومنٹ“ کا صدربنایاگیا،آپ کی قیادت میں اپوزیشن نے ملک کے چاروں صوبوں میں لاکھوں افرد پرمشتمل تاریخی جلسے کرکے حکومت اور اس کے پشتیبانوں کو حیران پریشان کردیایہ تحریک ابھی شروع کیانتائج نکلتے ہیں یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ مولانافضل الرحمن صاحب کی سوانح پر لکھی گئی یہ کتاب 12ابواب پرمشتمل ہے،ابتداء میں قائدجمعیۃ مولانافضل الرحمن کی زندگی ماہ وسال کے آئینہ میں،کے عنوان کے تحت مولاناکی پیدائش سے لے کر2017 ء تک تاریخواراہم واقعات کے تذکرہ کیاگیا ہے،
باب نمبر1:قائدجمعیت کاخاندانی پس منظر،حالاتِ زندگی،تحصیل علم،درس وتدریس،تصوف اور بچپن کے چند واقعات پرمشتمل ہے۔
باب نمبر 2:قائدجمعیت کے اوصاف وکمالات،عادات واخلاق،فہم وفراست،اخلاص وللہیت،علمی مقام،رجوع الی اللہ،امانت ودیانت،معاملات کی صفائی،جرات وبیباکی ادبی ذوق اور زہد استغنا پر مشتمل ہے۔
باب نمبر 3:جمعیت علماء اسلام کی خدمات کے حوالے سے قائدجمعیت کا کردار،
باب نمبر 4:تحفظ دینی مدارس،تحفظ ناموس رسالت،دفاع ختم نبوت اور جہاد افغانستان کے حوالے سے قائدجمعیت کاکردار۔
باب نمبر 5:عالمی سامراج کے خلاف جہدمسلسل،اعلان جہاد،اورمظلوموں کی حمایت۔
باب نمبر 6:پارلیمانی سیاست،انتخابی معرکے،سیاسی کامیابیاں،اور پارلیمنٹ میں حق وباطل کی کش مکش۔
باب نمبر 7:امورخارجہ کمیٹی کی چیئرمین شپ،بیرونِ ممالک کے دورے،اجتماعات سے خطاب اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں۔
باب نمبر8:کشمیرکمیٹی کی چیئرمین شپ،ملکی اور بین الاقومی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں قائدجمعیۃ کاکردار۔
باب نمبر 9:امن مذاکرات،قبائلی جرگے،ملکی اور بین الاقوامی سطح پر امن امان کی کوششوں میں قائدجمعیۃ کاکردار۔
باب نمبر 10:گرفتاریاں،قاتلانہ حملے،بین الاقوامی سازشیں،اعتراضات والزمات۔
باب نمبر11:پاک چائینہ اقتصادی راہداری،قائدجمعیت کا عظیم کارنامہ،مختلف ملکی اورعالمی مسائل پرقائدجمعیت کا موقف۔
باب نمبر 12:اکابرعلماء کرام مہتممین مدارس،مشائخ عظام اور قائدجمعیۃ کے عنوانات پر مشتمل ہے،کتاب میں درج تمام شخصیات پرحاشیہ میں ان کے حالاتِ زندگی کامختصر خلاصہ درج کیا گیا ہے،جس سے کتاب افادیت دوبالاہوچکی ہے،کتاب مولانافضل الرحمن کی مجاہدانہ زندگی،جہدمسلسل اور ان کی چالیس سالہ جدوجہد کے نشیب وفراز کی مکمل دستاویز ہے،کہ کس طرح ابتداء میں مخدوش حالات میں اپنے آپ کو منوایا،نائن الیون کے بعد کس طرح انہوں نے دینی طبقات کو عالمی غنڈوں کے نرغے سے بچایااور اب اس وقت کس طرح انہوں نے علماء اور دیندار طبقہ کوسر اُٹھاکر چلنے کا قابل بنایاہے؟جولوگ صرف سیاسی میدان اور میڈیا کے پروپیگنڈوں پریقین کرتے ہوئے مولاناکے بارہ کوئی رائے قائم کرتے ہیں وہ لوگ یقیناغلطی پر ہیں،جوشخص مولاناکے بارہ میں کوئی رائے قائم کرنا چاہتا ہے اس کے لئے یہ کتاب پڑھنا بہت ہی ضروری ہے،پاکستانی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص خصوصاًعلماء،طلباء،وکلاء سیاسی کارکنان سکول ومدارس کے ذمہ داروں کے لئے اس کتاب کا پڑھنا انتہائی لازمی ہے،اس کے بعد جو بھی رائے قائم کریں ان کی مرضی لیکن کم ازکم جہالت میں کسی کے بارہ کوئی رائے قائم کرناتوکوئی انصاف نہیں ہے۔
زیرتبصرہ کتاب مولانافضل الرحمن کی زندگی پرسب سے پہلی اور مفصل کتاب ہے،جو اوگی ضلع مانسہرہ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے مصنف حافظ مومن خان عثمانی کی کاوشوں کانتیجہ ہے،بہترین کاغذ،خوبصورت ٹائٹل،مضبوط جلد بندی کے ساتھ یہ کتاب مکتبہ الحسن اردوبازارلاہور نے 2017 ء میں شائع کی ہے، البتہ بعض مقامات پر عنوانات کے علاوہ عام عبارات کوبھی خط کشیدکیا گیا ہے،جوغالباً صدسالہ اجتماع کے موقع پر جلدی میں شائع ہونے کی وجہ سے بے توجہی کی نشانات ہیں،آئندی ایڈیشن میں اس خامی کودورکرناضروری ہے،808 صفحات پرمشتمل اس ضخیم کتاب کی قیمت 800 روپے ہے۔
Friday, December 18, 2020
Thursday, December 17, 2020
سنت رسولؐ کے اوپر کرکٹ قربان کر دوں گا، داڑھی نہ کٹوانے کی بدولت انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر کیا گیا، سابق کرکٹر شبیر احمد کا دعویٰ
سنت رسولؐ کے اوپر کرکٹ قربان کر دوں گا، داڑھی نہ کٹوانے کی بدولت انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر کیا گیا، سابق کرکٹر شبیر احمد کا دعویٰ
لاہور(این این آئی)سابق ٹیسٹ کرکٹر شبیر احمد نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے بالنگ ایکشن نہیں داڑھی کی وجہ سے انٹرنیشنل کرکٹ سے باہر کیا گیا،دو ہزار سات میں کرکٹ بورڈ کے بڑے آفیشل نے بلا کرکہا لبرل بورڈ بن رہا ہے
کرکٹ کھیلنی ہے تو داڑھی صاف کر لو مگر صاف انکار کر دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق شبیر احمد نے کہا کہ ان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کیا گیا، ایکشن کلیئر کے بعد ٹی ٹونٹی میچ بھی کھیلا۔ آسٹریلیا سے کھیلنے کی پیشکش ہوئی مگر ڈیرل فوسٹر سے کہا ملک نہیں چھوڑ سکتا۔یاد رہے کہ شبیر احمد نے پاکستان کی جانب سے 10 ٹیسٹ میچز میں 51 وکٹیں حاصل کی انہوں نے 32 ایک روزہ میچز کے ساتھ ایک ٹی ٹونٹی میچ بھی کھیل رکھا ہے۔ شبیر احمد نے کہا کہ مجھے کہا گیا انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنی ہے تو داڑھی صاف کر دو، میں نے بورڈ آفیشل کو جواب دیا کہ سنت نبویؐ پر کرکٹ قربان۔
میری ویب ساٸٹ پر اب پٸیسے آنا شروع
Tuesday, December 15, 2020
پاکستانی نوسرباز میاں کاشف نے ارطغل کو چونا لگا دیا
پاکستانی نوسرباز میاں کاشف نے ارطغل کو چونا لگا دیا






